آسمانی کتابیں اور قرآن کریم ہمیں سوچ و بچار، تحقیق و تلاش کی دعوت دیتا ہے، تحقیق و تلاش ذہن کی ایسی حرک تہے جس میں کائنات کی تخلیق کے فارمولے ہیں۔ جب کوئی فرد اس صلاحیت سے واقف ہوجاتا ہے تو وہ کائنات کے تخلیقی رازوں میں شریک ہوجاتا ہے۔ خالق کائنات اللہ فرماتا ہے:
’’اے رسولؐ انسانوں کو حکم دیجئے کہ وہ زمین میں چل پھرکر دیکھیں کہ اللہ نے کس طرح آفرینش کی ابتدا کی (20:29)
’’گویا یہ لوگ آسمان و زمین کی تخلیق پر غور نہیں کرتے،معلوم ہوتا ہے کہ ان کی موت قریب آگئی ہے۔‘‘ (185:7)
آسمانی علوم وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو حکم دے رہے ہیں وہ تفکر کرے اور خالق کائنات کی بنائی ہوئی کائنات، زمین و آسمان کی تخلیق کو سمجھے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تفکر کرنے کا حکم صرف مسلمانوں کے لئے نہیں دیا ہے بلکہ دنیا میں آباد انسانوں کے لئے ہے، دوسری آیت میں ارشاد ہے کہ وہ افراد یا قومیں جو تفکر نہیں کرتیں ان پر موت وارد ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس جو قوم مردہ دل ہو کر اپنی سوچ اور اپنی فکر کا محور ریاکاری بنالیتی ہے۔ اس کے اوپر ذلت اور رسوائی کا عذاب نازل کردیا جاتا ہے اور وہ قومیں محکوم بنادی جاتی ہیں۔
مسلمانوں نے جب تک غوروفکر کو اپنا شعار بنائے رکھا ترقی کی باگ دوڑ ان کے ہاتھ میں رہی اور وہ باعزت رہے اور جیسے جیسے مسلمانوں نے تفکر سے قطع نظر کیا ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن گئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
’’تمام کائنات اور زمین کے خزانے تمہارے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ (29:2)
سائنس کی جتنی تخلیقات ہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو ہر ایجادمیں کسی نہ کسی طور اللہ کی تخلیق کردہ چیزوں کا عمل دخل ہے۔ ہر تخلیق تفکر سے معمور ہے۔ جب تفکر کرنے والے ذہن نے زمین سے نکلنے والی دھات یورینیم پر غور کیا اور اس میں پنہاں توانائی حاصل کرنے کے لئے پرت در پرت ہٹایا تو ایک ذرہ نظر آیا جس کی ٹوٹ پھٹو سے ایسی توانائی کا انکشاف ہوا جس توانائی سے ہیروشیما ناگا ساکی کے لاکھوں ذی حیات صفحۂ ہستی سے غائب ہوگئے یا نقش و نگار (Dimension) تباہ و برباد ہوگئے۔
اعضا ٹوٹ گئے، شکلیں بگڑگئیں۔ دماغ کے سیلز میں اتنی تبدیلی واقع ہوگئی نوعوں کا خوبصورت وجود ڈراؤنی شکل بن گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تباہی کے تجربہ کی بنیاد پر ایک ایسا ہولناک ہتھیار وجود میں ظاہر ہوا جس کی تخریبی قوت سے فائدہ اٹھا کر ایک قوم دنیا کی دوسری قوموں پر برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
ہم علم دوست اور فہم و فراست کے حامل خواتین و حضرات کو بلاتفریق نسل یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ذہن تفکر کی طرف مائل ہوجاتا ہے تو نئے نئے انکشافات ہوتے ہیں اور زمین کی صلاحیتیں خود اپنا تعارف کراتی ہیں، اس آگاہی سے نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں۔
ہر ایجاد میں تعمیر اور تخریب کے دو رخ چھپے ہوئے ہیں۔۔۔ مٹی کی آبیاری سے ہم حیات اور زندگی اگر حاصل کرتے ہیں تو انہی ذرات سے دنیا کی کثیر مخلوق کو نیست و نابود بھ یا بدہیئت اور بدشکل اور معذور بناسکتے ہیں۔
غیرجانبدار (Neutral Thinking) رکھنے والا کوئف فرد ان میں غور و فکر کرتا ہے تو بے شمار صلاحیتیں Care of Creator اللہ کی صفات کے احاطے میں رہ کر سورج کی دھوپ کی طرح اپنا روشن وجود ظاہر کردیتی ہیں۔ جب کوئی بندہ اپنے اندر موجود باطنی صلاحیتوں کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور تفکر کو اپنا شعار بنالیتا ہے تو اس کے اوپر چھپی ہوئی صلاحیتیں ظاہر ہوجاتی ہیں۔
اگر انسان کو عقلِ سلیم (جس میں اپنی ذات پر محیط فائدے نہ ہوں) حاصل ہوجائے تو وہ زمین کے خزانوں سے ، زمینی اور آبی مخلوقات کو بہرحال فائدہ پہنچاسکتا ہے۔
جب کوئی بندہ اپنی روحانی صلاحیتوں سے واقف ہوجاتا ہے تو وہ اس خالق و مالک ہستی کا تعارف حال کرلیتا ہے جو بے غرض مخلوقات کے لئے ضرورت کی ہر چیز مفت فراہم کررہا ہے اور بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔
آسمانی کتابوں اور قرآن پاک میں تحقیق و تلاش کا عمل یقین عطا کرتا ہے کہ آدم کو خالق کائنات اللہ تعالیٰ نے اختیار عطا کیا ہے۔ خالق کائنات نے انسان کو علوم کے وہ خزانے عطا فرمائے ہیں جو دیگر نوعوں کو نہیں دیئے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کوئی بھی باحواس آدمی اللہ کی بنائی ہوئی تخلیقات پر غیر جانبدار ذہن (Neutral Thinking) سے غور کرتا ہے تو سب سے پہلے اپنے وجود میں اللہ کی قدرت اور عنایت کی ایک پوری فلم سامنے آجاتی ہے۔ ماں کی کا کوٹھری میں نو مہینے تک نشوونما کے لئے غذا کی فراہمی، اس کوٹھری سے باہر آنے کے بعد ماں کے سینے کو اللہ دسترخوان بنادیتا ہے۔۔۔ اور اس کے بعد پوری کائنات کی زندگی کادارومدار اللہ کے تخلیق کردہ وسائل پر ہے۔۔۔ جس سے کوئی صاحب فہم انکار کی جرآت نہیں کرسکتا۔ ہر لمحہ غائب ہورہا ہے۔ دوسرا مرحلہ ظاہر ہورہا ہے۔ جب اس قانون کو ضرب در ضرب کیا جائے گا تو آخری نتیجہ غائب ہوگا۔
اگر نطفہ میں (Sperm) کی ہیئت تبدیل نہ ہو تو۔۔۔؟ نومہینے تک نادیدہ غذافراہم نہ کی جائے تو۔۔۔؟ نشوونما کا اظہار نہ ہو۔۔۔؟ اور خوبصورت، کومل، معصوم پھول کی طرح نازک جیتی جاگتی تصویر کو براہِ راست ماں کی معرفت اگر غذا نہ ملے تو کیا جوانی، بڑھاپا کوئی معنی رکھتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ دنیا میں آنے سے پہلے میں کہاں تھا۔۔۔ اگرمیرے شب و روز پردے میں نہ چھپے ہوتے تو میں کہاں ہوتا۔۔۔ ہوتا بھ یا نہیں۔۔۔ سب کچھ ہونے کے باوجود انجام کیا ہے۔۔۔ جس طرح پیدائش سے پہلے غائب تھا پھر غیب کے پردہ میں چھپ گیا۔ حالات زندگی میں تغیر کے نتیجے میں تبدیلی، تبدیلی کے الٹ پلٹ سے جوانی، جوانی کے بعد انحطاط، انحطاط کے بعد بڑھاپا اور پھر۔۔۔؟
سوال یہ ہے کہ میں دنیا میں آنے سے پہلے کہاں تھا؟ اور دنیا کی اسکرین سے نکل کر کہاں گیا۔۔۔؟ زندگی ظاہر ہونے اور چھپنے کا نام ہے۔ دنیا میں آنے سے پہلے میں غائب تھا۔ مسلسل غیب میں چھپا رہا، غیب سے ظاہر ہوتا رہا، ظاہر سے غیب بنا، غیب میں ظاہر ہوا تو جوان ہوا۔ جوانی چھپی تو بوڑھا ہوگیا اور بڑھاپے پر دبیز پردہ آگیا۔ ہر ظاہر غیب ہوگیا۔
صاحب عقل و فہم اللہ کی روشن آیتوں میں تدبیر، فکر اور غور کرتے ہیں۔ (191-190:3)
اللہ حافظ
خواجہ شمس الدین عظیمی

0 تبصرے