اللہ
تعالی آپ کو دین و دنیا کی سب نعمتیں عطا کریں۔ آپ نے جس خلوص ، نیت اور محبت
سے" روحانی ڈائجسٹ" کو دل کی
گہرائیوں کے قبول کیا ہے اس کے لئۓ میں آپ کا شکر گزار ہوں ۔ مجموعی طور پر ہر
مکتبہ فکر کے لوگوں نے اس روحانی دستاویز
کو اللہ کی مخلوق کی خدمت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ مجھے لکھنے
اور آپ حضرات کو پڑھنے اور تفکّر کرنے کی تو فیق دیں۔ انشاءاللہ آپ کے اپنے روحانی
ڈائجسٹ میں تسخیر کائنات کے ایسے فارمولے پیش کئے جائیں گے جو فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً کی حیثیت سے ہمارا
ورثہ ہے۔اور جس کے اوپر مصلحتوں کے دبیز پردے ڈال دیئے گئے ہیں اور ہم ان پردوں سے
چھٹکارا حاصل کرنے کی بجائے کائنات میں جاری و ساری قانون کو بھی مغرب کی نظروں سے
دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں
نے عرض کیا تھا کہ جیسے جیسے آپ کا تعاون بڑھے گا
رسالہ کے صفحات اور اس کی تزئین میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اس مرتبہ سولہ
صفحات کا اضافہ کیا جارہا ہے اور رسالہ کی تزئین میں آپ نمایاں فرق محسوس کریں گے اور یہ وعدہ اپنی
جگہ بر قرار ہے۔
درخواست
ہے کہ اپنی رائے سے مطلع کرتے رہیں تاکہ
حالات کے مطابق اس میں تبدیلیاں کی جا سکیں اور یہ رسالہ دُکھی انسانیت کی خدمت کے
لئے ایک وسیلہ بن جائے۔
کچھ لوگوں نے نُور کے تانے
بانے سے مرکب اس نقش کو محض کاروباری نقطہ
نظر سے دیکھا ہے اور صفحات کم ہونے شکایت
کی ہے۔ پرکھ کا یہ انداز کاروباری اعتبار سے کتنا ہی صحیح ہو مگر کاغذ کی گرانی
اور کسی نئے پرچے کے اخراجات اور مالی
وسائل کی کمی کے پیش نظر ہم یہ شمارہ بغیر
کسی نفع کے منظر عام پر لائے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ پتھر
کے مقابلہ میں نیلم کی قیمت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ سونے چاندی کو تولوں ماشوں سے
تولا جاتا ہے جبکہ دوسری دھاتوں کو سیروں کے حساب سے میزان کیا جاتا ہے۔ بہر کیف میں
ان حضرات کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے خلوص دل سے اپنی رائے لکھی ہے۔
تاثرات میں آپ پڑھیں
گے کہ لوگوں نے پرچہ کی افادیت پر جہاں اپنے پر خلوص جذبات کا اظہار کیا ہے
وہاں چند کرم فرماؤں نے گالیوں سے بھی نوازا ہے۔ چونکہ یہ پرچہ رحمتہ اللعالمین حضور علیہ الصلوٰۃ والسّلام کے مشن کی پیش رفت
کے لئے جاری کیا گیا ہے اس لئے یہ بھی ہمارے لئے
ایک قیمتی سرمایہ ہے کہ اس سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی سنّت پوری ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں اپنے
نبی ﷺکے نقش قدم پر چلنے کی ہمت عطا کریں ۔ آمین۔
دعاگو
خواجہ شمس الدّین عظیمی

0 تبصرے