السّلام علیکم !
دنیا
میں افرا تفری کا ایک عالم برپا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی الجھن میں گرفتار ہے۔ذہنی
سکون ختم ہوگیا ہے۔ عدم تحفظ کے احساس سے حزن وملال کے سائے گہرے اور دبیز ہوگئے ہیں۔
اخبارات میں آئے دن حادثات اور انسانوں کی
قیمتی جانیں ضائع ہونے کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ کبھی فلک بوس عمارتوں کے
سرنگوں ہونے اور ان کے نیچے بندگانِ خدا کے ہلاک ہونے کی دلدوز اور وحشت اثر خبریں
ہمارے سامنے آتی ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں ہے کہ ہم آفاتِ ارضی و
سماوی کی یلغار کی زد میں ہیں۔ بظاہر ان المناک واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی ہم یہ توجیہہ کرتے ہیں کہ تعمیر
کنندگان کی ہوس زر کی وجہ سے یہ نوبت آئي ہے یا
زمین کے اندر ردّو بدل اس کا سبب ہے۔ یہ باتیں بظاہر کتنی ہی معقول اور وزنی ہوں لیکن اگر ایک راسخ العقیدہ مسلمان کی حیثیت سے دیکھا جائے
تو فرمان خدا وندی کے بموجب انسانی معاشرہ میں آباد لوگوں کے جرائم اور خطا کاریاں،
ارضی و سماوی آفات اور ہلاکتوں کو دعوت دیتی
ہیں۔
جب
کوئی قوم قانونِ خدا وندی سے انحراف و گریز کرتی ہے اور خیر و شر کی تفریق کو نظر
انداز کرکے قانون شکنی کا ارتکاب کرنے لگتی ہے تو افراد کے یقین کی قوتوں میں اضمحلال شروع ہوجاتا ہے۔ آخر ایک وقت ایسا
آتا ہے کہ یقین کی قوت بالکل معدوم ہوجاتی ہے اور عقائد میں شک اور وسواس در آتے ہیں۔
اس تشکیک اور بے یقینی کی بناء پر قوم توہمّات میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ توہمّاتی
قوتوں کے غلبے سے انسان کے اندر طرح طرح
کے وسوے اور اندیشے پیدا ہونے لگتے ہیں جس کا منطقی نتیجہ حرص و ہوس پر منتج ہوتا
ہے۔ یہ حرص و ہوس انسان کو اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں بے یقینی او ر توہمّاتی قوتیں
مکمل طور پر اس کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان زندگی
کی حقیقی مسرتوں سے محروم ہوجاتا ہے اور
اس کی حیات کا محور اللہ تعا لیٰ کی بجائے
ظاہری اور مادی وسائل بن جاتے ہیں اور جب کسی قوم کا انحصار درو بست مادی
وسائل پر ہوجاتا ہے تو آفات ارضی و سماوی
کا لا متناہی سلسلہ عمل میں آنے لگتا ہے اور بالآخر ایسی قومیں صفحۂ ہستی سے مٹ
جاتی ہیں۔
ہمیں
یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ اللہ تعالی شک اور بے یقینی کو دماغ میں جگہ دینے سے منع
فرماتے ہیں۔ یہ وہی شک اور وسوسہ ہے جس سے آدمؑ کو باز ہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ بالآخر شیطان نے بہکا کر آدمؑ کو شک اور بے یقینی میں گرفتار بلا کردیا جس کے سبب
آدم ؑ کو جنت کی نعمتوں سے محروم ہونا پڑا۔
انبیائے
کرامؑ اور ان کے وارث اولیاء اللہ نے روحانی طرزوں میں ہمیں اسی بے یقینی اور شک
سے آزاد ہونے کا ایک مؤثر پروگرام دیا ہے۔
روحانی ڈائجسٹ اس "فکر سلیم " کی پیش رفت کے لئے ایک وسیلہ ہے۔
مئی کا شمارہ شائع ہونے تک ہمیں اللہ تعالی کے فضل و کرم سے جو کامیابی نصیب ہوئی
ہے گو کہ وہ سورج کے سامنے چراغ کی حیثیت رکھتی ہے مگر پانچ مہینوں کی اس کوشش میں
ہم بہر کیف کامیاب ہوئے ہیں۔
ناسپاس
گزاری ہوگی اگر میں ان خواتین و حضرات کا شکریہ ادا نہ کروں جنہوں نے روحانی ڈائجسٹ کو اپنی تمام تر صلاحیتوں
سے آگے بڑھایا ہے اور ان کا یہ جذبۂ خلوص و عقیدت اس کی اشاعت میں اضافہ کا سبب
بنا ہے۔ روحانی ڈائجسٹ حضور اکرم ﷺ کے وارث اولیاء اللہ کے مشن کو ایک گھر سے دوسرے گھر پہنچانے کا مؤثر اور
اہم ذریعہ ہے۔ اسی جذبہ، خلوص اور لگن سے آپ اس کو ایک گھر سے دوسرے گھر پہنچاتے
رہئیے۔ انشاءاللہ تعالیٰ ہم اللہ کی مخلوق
کی خدمت کے اس سلسلہ کو بہت احسن طریقہ سے انجام دینے کے قابل ہوجائیں گے اللہ
تعالی اپنے راستہ میں ہم سب کی کوششوں کو شرف بخشیں۔ آمین!
دعاگو
خواجہ شمس الدّین عظیمی

0 تبصرے