۷۹ء شمسی سال کے پہلے مہینے اور اس ماہ
ستائیس تاریخ کو چشم ظاہر سے ایک ایسا آفتاب غروب ہوگیا جو صدیوں میں طلوع ہوتا ہے
اور اس کی کرنیں زمین و آسمان کو محیط ہوتی ہیں۔
ایک ایسی ہستی نے پردہ فرما لیا جس
کی دعاؤں کے طفیل قضاو قدر کے فیصلے تبدیل
ہوجاتے ہیں۔ بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ مخلوق کی مصیبتیں اور پریشانیاں دور کی جاتی ہیں۔
ممثل
کلیات، ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاءؒ کل نفس ذائقۃ الموت کے مصداق
’’عالم ناسوت ‘‘سے ’’عالم حضور ‘‘میں تشریف لے گئے۔ جسمانی مفارقت کے اس
مظہر نے دل کی دنیا زیرو زبر کردی۔ عقل و
شعور کی رنگین بساط پر اندھیرا چھا گیا۔
گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جینے کا یارانہ رہا شعور مغلوب اور لا شعور غالب آگیا۔
ساری صلاحیتیں ایک نقطہ پر مرکوز ہو گئیں
کہ یہ دنیا بے ثبات ہے۔ اس آب و گل کے نا
پائیدار عالم سے اس عالم غیر متغیر میں منتقل ہوجانا چاہیئے جہاں انسان ٹائم اسپیس
کی قید سے آزاد ہے۔
بارے اس حالت زار پر میرے مرشد کریم قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کو رحم
آیا اور چشم نا بینا کو بینائی عطا ہوئی۔
مسکین بے نوا پر فنا وبقا کا سر بستہ راز منکشف ہوا تو مضطروبے چین روح
کو قرار اور دل حزیں کو سکون و طمانیت کی دولت نصیب ہوئی۔
اللہ کے دوست، مشیّت سے آشنا، عارف تجلّیٔ ذات حضرت قلندر بابا او لیاءؒ کی
رحلت کی خبر سے غم واندوہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔
عقید تمند حضرات نے ٹیلیفون، ٹیلیگرام اور خطوط کے ذریعہ اظہار رنج و ملال
کیا۔ حضرت قبلہؒ کا فیض جاری رہنے کی دعائیں کیں۔ فردا ًفردا ًتمام خطوط کا جواب
لکھنا بجائے خود ایک کام ہے بدیں وجہ آپ کے اپنے روحانی ڈائجسٹ کے وسیلہ سے میں
جملہ متعلقین، مریدین اور عقید تمند حضرات کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میری دعا ہے
اللہ تعالی آپ سب حضرات کو دین و
دنیا کی ساری نعمتیں عطا کریں۔
خواہش
ہے کہ روحانی ڈائجسٹ ایک ایسی دستاویز بن جائے جس کے ذریعے ہم اور ہماری نسلیں
مقصدِ حیات سے متعارف ہوجائیں۔ وہ مقصد حیات جس کو فراموش کرکے ہم نے من حیث القوم دنیا میں اپنا اقتدار
کھودیا۔ اور ہمارا شمار ان قوموں میں ہونے
لگا جن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے جو دوسروں کی محتاج اور دستِ نگر ہے جبکہ اللہ
تعالی کا ارشاد ہے: "سماوات اور ارض میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب تمہارے لئے
مسخر کردیا گیا ہے۔"
چودہ سو سال پہلے کے زمانے اور اس زمانے کو دیکھا جائے تو اندھیروں میں بھٹکنے
کے سوا کوئی روشنی نظر نہیں آتی ۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ ہم زبانی دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن جب عمل کا وقت
آتا ہے تو تہی دامن ہوجاتے ہیں۔
ذہنی
یکسوئی حاصل کرنے کے لئے ٹیلی پیتھی کی
مشقوں سے نہایت مفید نتائج مرتب ہوئے ہیں۔
اپریل ۷۹ء کے شمارہ سے ٹیلی پیتھی کی مشقیں شائع کرنے کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے تاکہ پریشان حال لوگ اپنی مدد آپ کے اصول پَر سُکون و راحت کی
دولت سے مالا مال ہوسکیں، بیماریوں اور مصائب کے ہجوم سے خود کو آزاد کر سکیں۔ آپ
کی دعائیں میرا سرمایۂ حیات ہے۔ درخواست ہے کہ کامیابی کی دعا کریں۔
دعاگو
خواجہ شمس الدّین عظیمی

0 تبصرے